Sukhan AI
غزل

फ़िराक़ गोरखपुरी - शाम-ए-ग़म कुछ उस निगाह-ए-नाज़

फ़िराक़ गोरखपुरी - शाम-ए-ग़म कुछ उस निगाह-ए-नाज़
فراق گورکھپوری· Ghazal· 5 shers

یہ غزل 'شامِ غم' کے ماحول میں محبوب کی نظروں کے نفاست بھرے الفاظ یاد کرنے کا موضوع ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس غمگین خاموشی اور دلکش نظر میں، बस उन रहस्यों اور باتوں کو دہرایا جائے جو उनसे जुड़ी ہیں۔ یہ عشق کے گہرے، بے قرار اور درد بھرے لمحات کا ایک پُر تاثیر منظر ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
शाम-ए-ग़म कुछ उस निगाह-ए-नाज़ की बातें करो बेख़ुदी बढ़ती चली है राज़ की बातें करो
شامِ غم میں وہ ناز کی نگاہ کی باتیں کرو، کیونکہ میری بے خودی بڑھتی جا رہی ہے اور مجھے راز کی باتیں جاننی ہیں۔
2
ये सुकूत-ए-नाज़, ये दिल की रगों का टूटना ख़ामुशी में कुछ शिकस्त-ए-साज़ की बातें करो
اے سُکوتِ ناز، یہ دل کی رگوں کا ٹوٹنا، خاموشی میں کچھ شِکستِ ساز کی باتیں کرو۔
4
कूछ क़फ़स की तीलियों से छन रहा है नूर सा कुछ फ़िज़ा, कुछ हसरत-ए-परवाज़ की बातें करो
ایسی بات کرو جیسے کسی قفس کی تاروں سے چھن کر آ رہی روشنی ہو، یا کچھ ماحول، یا پرواز کی شدید ہجر کی باتیں کرو۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.