“The garland finds its worth in the flower-garden,The Sultan praises it, saying, "Excellent, excellent!";Seeing this, the virtuous too become like a Sultan;O gardener!”
ایک گجرے کو اس کی اصل قیمت پھولوں کے باغ میں ملتی ہے۔ جب سلطان اسے 'بہترین، بہترین' کہہ کر سراہتا ہے، تو اسے دیکھ کر اہل ہنر بھی سلطان کی طرح عزت پاتے ہیں، اے مالن!
یہ خوبصورت شعر ہمیں بتاتا ہے کہ کسی شے کی اصل قدر تب اور بڑھ جاتی ہے جب اسے کوئی قدردان ملے۔ جیسے ایک عام سی گجرہ بھی سلطان کی تعریف پا کر بیش قیمت ہو جاتا ہے، اسی طرح جب کسی ہنر مند یا بااخلاق شخص کی کسی بڑے اور بااثر فرد کی جانب سے تعریف کی جاتی ہے، تو وہ اور بھی پرجوش ہو جاتا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ تعریف اور شناخت دوسروں کو مزید عمدگی کی طرف بڑھنے کی ترغیب کیسے دے سکتی ہے۔ 'مالن' کو مخاطب کرنا شاید اس بات کی علامت ہے کہ خوبصورتی اور خوبیوں کو پروان چڑھانے والا ہی حقیقی پہچان دلاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
