“No moment stays within its belly, like kheer devoured by a cat;Why should we then needlessly feed it? My dear friend, just ponder that.”
اگر پیٹ میں ایک لمحہ بھی کچھ نہ ٹھہرے، جیسے بلی کھیر کھا جائے، تو اسے بے فائدہ کیوں کھلائیں؟ میرے دوست، ذرا اس پر غور کرو۔
یہ دوہا کتنی خوبصورت اور گہری بات کہتا ہے! بلی کو کھیر کھلانے کا ذکر کر کے شاعر ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں ہم کتنا بھی کچھ ڈال دیں، وہ کبھی اسے سنبھال کر نہیں رکھ پاتی ہیں۔ جیسے بلی کے پیٹ میں کھیر ٹکتی نہیں۔ یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم اپنا قیمتی وقت، توانائی یا مشورہ ایسی جگہوں پر تو نہیں لگا رہے جہاں اس کی کوئی مستقل قدر نہیں۔ شاعر اپنے دوست سے پیار سے کہتے ہیں کہ بلاوجہ کیوں کسی کو کھلانا، اس پر ذرا غور تو کرو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
