“When we address a child with grace,Our very selves like them become;We babble "Bhoo, bau, Tata" with playful face,Though learned kings, from wisdom's home.”
جب ہم بچے کے سامنے بولتے ہیں تو ہم بچے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ہم 'بھو، باؤ، تاتا' جیسے بچگانہ الفاظ ادا کرتے ہیں، چاہے ہم کتنے ہی علم والے بادشاہ کیوں نہ ہوں۔
یہ خوبصورت شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ہم بچوں سے بات کرتے ہیں تو خود بھی کتنے معصوم ہو جاتے ہیں۔ چاہے ہم کتنے بھی دانا بادشاہ ہی کیوں نہ ہوں، ہم خوشی خوشی اپنی سمجھداری کو ایک طرف رکھ کر "بھو، باؤ، ٹاٹا" جیسے پیارے الفاظ بولنے لگتے ہیں۔ یہ بچوں کے ساتھ جڑنے میں چھپی سادگی اور محبت کو دکھاتا ہے، جہاں ہم اپنی بڑائی بھول کر ان کی بچکانہ مسرت میں شامل ہو جاتے ہیں۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
