رہیے مشتاق جلوۂ دیدار — داغ دہلوی
“Remain ever longing for the splendor of the vision; I grant that it does not appear before our eyes.”
معنی
محبوب کے دیدار کے جلوے کی خواہش میں ہمیشہ بے قرار اور مشتاق رہیے، اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ وہ دکھائی نہیں دیتا۔
تشریح
شاعر یہاں بڑے دلفریب انداز میں سمجھاتے ہیں کہ اگرچہ محبوب یا جلوۂ حق نگاہوں کے سامنے نہیں آتا، مگر اس کے دیدار کی طلب اور تڑپ کو کبھی ماند نہیں پڑنا چاہیے۔ اس شعر کا اصل حسن یہ ہے کہ یہاں منزل کے ملنے سے زیادہ راستے کی تڑپ اور انتظار کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ دیدار کی نفی کو مان کر بھی دل کو اشتیاق و تمنا کی شمع جلائے رکھنے کا درس دیا جا رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
