کہیں مشتاق سے حجاب ہوا — داغ دہلوی
“To the yearning lover You drew a veil at times, while at other times, You cast the veil aside.”
معنی
کبھی تو نے چاہنے والے سے پردہ کر لیا اور کبھی تو نے خود ہی پردہ اٹھا دیا۔
تشریح
اس شعر میں محبوب کی دلکش ادا اور بے نیازی کی خوبصورت تصویر کشی کی گئی ہے، جسے عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی دونوں حوالوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ شوق اور تڑپ سے بھرے دل کے سامنے کبھی تو حجاب تان کر تڑپایا جاتا ہے اور کبھی بن مانگے ہی حسن کا جلوہ دکھا دیا جاتا ہے۔ دراصل شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ وصل اور دیدار کی یہ نوازش عاشق کی طلب کے بس میں نہیں، بلکہ یہ کلی طور پر محبوب کی عنایت اور مرضی پر منحصر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
