نغمہ بلبل کو رنگ و بو گل کو — داغ دہلوی
“To the nightingale You granted song, to the rose its hue and scent; charming and delightful are the gifts Your grace has sent.”
معنی
اے خدا، تو نے بلبل کو نغمہ اور پھول کو رنگ و خوشبو عطا کر کے انہیں دلکش اور خوبصورت بنا دیا ہے۔
تشریح
اس حمدیہ شعر میں شاعر نے خالقِ کائنات کے حسنِ تخلیق اور فیاضی کو نہایت خوبصورتی سے سراہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شے کو اس کا مخصوص حسن عطا کیا ہے؛ بلبل کو دلکش نغمہ بخشا تو پھول کو رنگ اور خوشبو کی رعنائی سے نوازا۔ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدرت نے دنیا کے ہر گوشے کو الگ رنگ ڈھنگ دے کر کتنا متوازن، دل آویز اور پُرکشش بنایا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
