میری رسوائی کی نوبت آ گئی — داغ دہلوی

میری رسوائی کی نوبت آ گئی ان کی شہرت کو بہ کو ہونے لگی

“The hour has come of my disgrace and shame, while street by street now echoes with her fame.”

— داغ دہلوی

معنی

اب میری رسوائی اور بدنامی کی نوبت آ گئی ہے، جبکہ گلی گلی ان کی شہرت اور چرچے پھیلنے لگے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں محبت کا ایک بڑا خوبصورت اور تلخ تضاد بیان ہوا ہے کہ رازِ الفت فاش ہونے پر عاشق کے حصے میں تو بدنامی و رسوائی آئی، مگر وہی فسانہ معشوق کے حسن اور چرچے کو کوچہ بہ کوچہ عام کر گیا۔ غزل کی روایت میں عاشق کی تباہی اور معشوق کا عروج ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں، جہاں عاشق خود مٹ کر بھی اپنے محبوب کے نام کو روشن کر دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.