کلیجا مرے منہ کو آئے گا اک دن — داغ دہلوی
“My heart shall leap into my mouth one day, / as sighs and laments keep rising to my lips.”
معنی
ایک دن میرا کلیجہ منہ کو آ جائے گا، کیونکہ اسی طرح مسلسل میرے ہونٹوں پر آہیں اور فریادیں آتی رہتی ہیں۔
تشریح
شاعر نے اس شعر میں مسلسل غم اور بے قراری کی انتہا کو روزمرہ کے محاورے ’کلیجہ منہ کو آنا‘ کے ذریعے کمال خوبصورتی سے باندھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دل کے درد سے اٹھنے والی آہیں اور چیخیں جس تواتر سے لبوں پر آ رہی ہیں، لگتا ہے کسی روز ان کے ساتھ خود دل بھی باہر نکل آئے گا۔ یہ اس جان لیوا کڑھن کا بیان ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر کے فنا کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
