ابھی سن ہی کیا ہے جو بیباکیاں ہوں — داغ دہلوی
“She is yet too young for such bold, daring ways; playful coquetry will come to her only with passing days.”
معنی
ابھی ان کی عمر ہی کیا ہے کہ ان میں بیباکی ہو؛ شوخی اور چنچلاہٹ ان میں وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ ہی آئے گی۔
تشریح
اس شعر میں محبوب کے بچپنے اور معصومیت کا بڑا ہی دلکش اور نازک نقشہ کھینچا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ابھی تو اس کی عمر ہی بہت چھوٹی ہے، اس لیے اس سے بےباکی اور کھل کھیلنے کی توقع رکھنا زیادتی ہوگی۔ عشق کی ادائیں، شوخیاں اور ناز و نخرے تو وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ سیکھے جاتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے کلی رفتہ رفتہ کھل کر پھول بنتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
