مجھے یاد کرنے سے یہ مدعا تھا — داغ دہلوی
مجھے یاد کرنے سے یہ مدعا تھا
نکل جائے دم ہچکیاں آتے آتے
“Was this your purpose in calling me to mind: that life should slip away amidst endless hiccups?”
— داغ دہلوی
معنی
کیا مجھے یاد کرنے سے آپ کا یہ مقصد تھا کہ مسلسل ہچکیاں آتے آتے میری جان ہی نکل جائے؟
تشریح
ہمارے ہاں یہ خوبصورت لوک روایت عام ہے کہ جب کوئی اپنا یاد کرے تو ہچکیاں آنے لگتی ہیں۔ شاعر اسی خیال کو محبوب سے ایک شوخ اور پُردِرد شکوے میں بدل دیتا ہے کہ کیا اتنی شدت سے یاد کرنے کے پیچھے مقصد میری جان لینا تھا؟ اس شعر میں فراق کی تڑپ اور محبوب کی یاد کے بے پناہ اثر کو کمال سادگی سے برتا گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
