سنانے کے قابل جو تھی بات ان کو — داغ دہلوی
“The only truth that was worthy of telling them, was left unsaid, lost halfway in between.”
معنی
جو بات حقیقت میں اُنہیں سنانے کے لائق تھی، وہی بات سامنے آتے آتے درمیان ہی میں کہے بغیر رہ گئی۔
تشریح
کبھی کبھی دل کی سب سے خاص بات لبوں تک آتے آتے رک جاتی ہے، گویا جذبات کی شدت نے الفاظ کو راستے میں ہی قید کر لیا ہو۔ شاعر اسی حسرت کو بیان کر رہا ہے کہ محبوب سے مل کر دنیا بھر کے قصے تو چھڑ گئے، لیکن جو ایک بات اصل میں دل سے لگتی تھی وہ جھجھک اور حیا کی نذر ہو گئی۔ یہ شعر اس خاموش درد کی عکاسی کرتا ہے جو دل اور زبان کے درمیانی فاصلے میں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
