یقیں ہے کہ ہو جائے آخر کو سچی — داغ دہلوی

یقیں ہے کہ ہو جائے آخر کو سچی مرے منہ میں تیری زباں آتے آتے

“I am certain it will come true in the end, as your tongue slowly finds its way into my mouth.”

— داغ دہلوی

معنی

مجھے یقین ہے کہ آخرکار یہ بات سچی ہو جائے گی، جب تک تمہاری زبان میرے منہ میں آئے گی۔

تشریح

اس شعر میں لفظ ’زباں‘ کا ایسا شوخ اور دلکش پہلو باندھا گیا ہے جو قربت کے لمس اور بولی دونوں مفاہیم کو خوبصورتی سے سمیٹ لیتا ہے۔ ایک طرف یہ محبوب کے ساتھ وصال کا بے باک اظہار ہے، تو دوسری طرف یہ یقین کہ محبوب کے وعدے تبھی سچ ثابت ہوں گے جب عاشق اس کے اندازِ سخن کو اپنا لے گا۔ یہ قربت کے خواب اور محبوب پر اٹوٹ بھروسے کا ایک نازک اور دلفریب بیان ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.