سنا ہے کہ آتا ہے سر نامہ بر کا — داغ دہلوی
“Word has arrived that the messenger's severed head is on its way; where then has this precious gift been delayed along the way?”
معنی
سنا ہے کہ نامہ بر کا سر آ رہا ہے؛ یہ تحفہ یہاں پہنچتے پہنچتے آخر کہاں رہ گیا؟
تشریح
اس شعر میں غالب نے سیاہ طنز اور شدید وارفتگی کا ایک عجیب منظر باندھا ہے۔ عاشق نے محبوب کی طرف قاصد بھیجا تھا، لیکن محبوب نے جواب کے بدلے اس بےچارے نامہ بر کا سر ہی قلم کر کے واپس بھیج دیا۔ کمال کی بات یہ ہے کہ عاشق کے لیے محبوب کی طرف سے بھیجا گیا یہ کٹا ہوا سر بھی ایک قیمتی تحفہ یعنی ارمغاں ہے، اور وہ بےتابی سے پوچھ رہا ہے کہ آخر یہ سوغات پہنچنے میں اتنی دیر کیوں ہو رہی ہے۔ یہ محبت کا وہ اندھا جنون ہے جہاں محبوب کا ظلم بھی عاشق کے لیے عنایت بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
