بنا ہے ہمیشہ یہ دل باغ و صحرا — داغ دہلوی
“This heart has ever turned into a garden and a desert waste, while spring was still arriving, while autumn was coming on.”
معنی
یہ دل ہمیشہ بہار کے آتے آتے باغ اور خزاں کے آتے آتے صحرا بنتا رہا ہے۔
تشریح
شاعر نے انسانی دل کی بے قراری اور اس کے بدلتے رنگوں کو بڑے دل نشین استعاروں میں پرویا ہے۔ دل کبھی خوشی اور امید کا کھلتا ہوا باغ بن جاتا ہے تو کبھی اداسی اور تنہائی کا بنجر صحرا۔ المیہ یہ ہے کہ بہار کے لمحات پوری طرح کھل بھی نہیں پاتے کہ خزاں کی اداسی دستک دے دیتی ہے، گویا دل ہمیشہ راحت اور دکھ کے درمیانی فاصلے میں تڑپتا رہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
