کسی نے کچھ ان کو ابھارا تو ہوتا — داغ دہلوی
“Had someone only coaxed them just a little, refusing and hesitating, they still would have arrived.”
معنی
کاش کسی نے انہیں تھوڑا سا بھی آمادہ کیا ہوتا، تو وہ نہ نہ کرتے ہوئے بھی آخرکار یہاں آ ہی جاتے۔
تشریح
اس شعر میں محبوب کے ناز و نخرے اور حیا آمیز جھجک کی بڑی پیاری اور شوخ تصویر کشی کی گئی ہے۔ عاشق حسرت سے کہتا ہے کہ کاش کسی نے محبوب کو ذرا سا منایا ہوتا یا تھوڑی سی ترغیب دی ہوتی، تو وہ انکار کے باوجود چلے آتے۔ 'نہ آتے نہ آتے' کی خوبصورت تکرار یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ لاکھ تذبذب اور ہچکچاہٹ دکھاتے، مگر بالآخر ان کے قدم یہیں آ کر رکتے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
