مرے آشیاں کے تو تھے چار تنکے — داغ دہلوی

مرے آشیاں کے تو تھے چار تنکے چمن اڑ گیا آندھیاں آتے آتے

“My nest was made of merely four frail straws / Yet the whole garden blew away as the tempests arrived.”

— داغ دہلوی

معنی

میرے گھونسلے میں تو محض چار تنکے ہی تھے، مگر آندھیوں کے آتے آتے پورا چمن ہی اڑ گیا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے ذاتی دکھ اور ایک بہت بڑی تباہی کے مابین گہرے تعلق کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ انسان ہمیشہ اپنے چند تنکوں سے بنے نازک آشیانے کے بارے میں فکر مند رہتا ہے، لیکن جب زمانے کی آندھی چلی تو صرف وہ گھونسلا ہی نہیں بلکہ پورا چمن ہی تہس نہس ہو گیا۔ یہ زندگی کی اس بے بسی کی تصویر ہے جہاں ہمارا چھوٹا سا ذاتی غم کسی وسیع بربادی کے سامنے بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.