تری آنکھ پھرتے ہی کیسا پھرا ہے — داغ دہلوی
“The moment your gaze turned away, see how it turned back— / the heavens, just as they were coming round to favor my path.”
معنی
جیسے ہی تمہاری نظر مجھ سے پھری، آسمان (قسمت) بھی ویسے ہی پھر گیا جبکہ وہ میرے موافق ہونے ہی والا تھا۔
تشریح
اس دلکش شعر میں شاعر نے اپنی تقدیر کا سارا دارومدار محبوب کی نگاہِ کرم پر رکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آسمان یعنی گردشِ ایام ابھی بمشکل اس کے حق میں سازگار ہونے ہی والا تھا کہ محبوب نے نظریں پھیر لیں اور بخت پھر سے الٹ گیا۔ لفظ 'پھرنا' کی خوبصورت رعایت سے یہ دکھایا گیا ہے کہ عاشق کا سارا مقدر صرف محبوب کی ذرا سی توجہ یا بے رخی سے بندھا ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
