نتیجہ نہ نکلا تھکے سب پیامی — داغ دہلوی
“No outcome ever came to light, all the couriers grew weary / In endlessly going over there, and coming back over here.”
معنی
وہاں جانے اور یہاں واپس آنے کے چکر میں سارے قاصد تھک گئے، مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر نے محبوب کی بے رخی اور طویل خاموشی کو قاصدوں کی تھکن کے استعارے سے بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ وصل کی کوئی سبیل نہ نکل سکی اور دونوں طرف پیغام لانے اور لے جانے والے سارے نامہ بر چکر کاٹ کاٹ کر بے دم ہو گئے۔ یہ اس بے بس محبت کا المیہ ہے جہاں تمام تر کوششوں کے باوجود فاصلے مٹتے نہیں بلکہ صرف تھکن مقدر بنتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
