کہاں قدر ہم جنس ہم جنس کو ہے — داغ دہلوی
“Where does a peer ever value his own kind? Even angels they dismiss as merely human.”
معنی
اپنی ہی جنس کے لوگوں کو اپنے جیسوں کی کوئی قدر نہیں ہوتی، لوگ تو فرشتوں کو بھی محض عام انسان ہی سمجھتے ہیں۔
تشریح
یہ شعر انسانی فطرت کی ایک گہری اور تلخ سچائی کو بڑے دلنشین انداز میں سامنے لاتا ہے کہ انسان کبھی اپنے ہم جنس یعنی اپنے جیسے دوسرے انسان کی قدر نہیں کرتا۔ ہم قربت اور انا کے سبب اپنوں کی اچھائیوں کو تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں۔ غفلت کا یہ عالم ہے کہ اگر کوئی فرشتہ صفت ہستی بھی ہمارے سامنے آ جائے، تو ہم اپنی ناقدری کے باعث اسے بھی بس ایک عام اور معمولی انسان سمجھ کر ٹال دیتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
