پڑا ہوں سر بزم میں دم چرائے — داغ دہلوی
پڑا ہوں سر بزم میں دم چرائے
مگر وہ اسے بے خودی جانتے ہیں
“I lie in the gathering holding my breath, yet they mistake it for a state of trance.”
— داغ دہلوی
معنی
میں محفل میں سانس روکے چپ چاپ پڑا ہوں، لیکن وہ اسے میری بے خودی سمجھ رہے ہیں۔
تشریح
اس شعر میں شاعر محفل کے بیچوں بیچ دم سادھے، نڈھال پڑا ہے تاکہ اس کا درد کسی پر ظاہر نہ ہو اور دل کا تماشا نہ بنے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ محبوب اور اہل محفل اس جان لیوا ضبط اور گھٹن کو عشق کی سرشاری یا بے خودی سمجھ رہے ہیں۔ یہ شعر باطنی کرب اور دنیا کی لا علمی کے درمیان موجود دردناک فاصلے کو بڑی خوبصورتی سے اجاگر کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
