نہ ہو دل تو کیا لطف آزار و راحت — داغ دہلوی
“Without a heart, what relish remains in torment or relief? Joy and sorrow alike are reckoned one and the same.”
معنی
اگر دل ہی نہ ہو تو تکلیف اور راحت کا کیا مزہ رہ جاتا ہے، ایسی حالت میں خوشی اور ناخوشی دونوں ایک برابر سمجھی جاتی ہیں۔
تشریح
شاعر یہاں دل کو تمام تر انسانی احساسات کا سرچشمہ قرار دے رہے ہیں۔ اگر سینے میں محسوس کرنے والا دل ہی نہ رہے، تو دکھ ہو یا سکھ، دونوں بے معنی ہو جاتے ہیں اور خوشی اور غم کا فرق مٹ جاتا ہے۔ یہ شعر دل کی نزاکت کو بیان کرتا ہے کہ درد اور تکلیف کا بھی اپنا ایک لطف ہے، کیونکہ یہ احساس ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان اندر سے زندہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
