شب وصل لیں ان کی اتنی بلائیں — داغ دہلوی
“On the night of union, I warded off harm from my beloved so endlessly, that how wearied they grew, dear friend, only my own hands truly know.”
معنی
وصل کی رات میں نے اپنے محبوب کی اتنی بلائیں لیں کہ اے دوست، اس کی تھکن صرف میرے ہاتھ ہی جانتے ہیں۔
تشریح
ہماری تہذیب میں ’بلائیں لینا‘ محبت اور دعاؤں کا وہ خوبصورت انداز ہے جس میں انسان محبوب کے سر سے ہاتھ وار کر اس کے سارے دکھ درد اپنے نام کر لیتا ہے۔ شاعر اپنے دوست سے کہتا ہے کہ وصال کی اس حسیں رات وہ اپنے محبوب کی دید میں اس قدر کھو گیا کہ ساری رات بس اس کی نظر ہی اتارتا اور بلائیں لیتا رہا۔ اس شعر میں عشق کا وہ والہانہ اور معصومانہ رنگ جھلکتا ہے جہاں محبوب پر صدقے ہونے اور اس کی خیر منانے کا جذبہ ہر شے پر غالب آ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
