“O preacher, it is not the dread of Judgment Day that troubles me; my worry is: how shall faith endure once this mortal world ceases to be?”
اے واعظ، مجھے قیامت کا کوئی دکھ نہیں ہے بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ اگر یہ دنیا ہی فانی ہے تو دین کیسے باقی رہ سکتا ہے۔
شاعر یہاں واعظ کے روایتی خوف یعنی قیامت کی ہولناکیوں پر ایک ظریفانہ مگر گہری چوٹ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے دنیا کے فنا ہونے کا خوف نہیں، بلکہ فکر یہ ہے کہ اگر یہ فانی دنیا ہی نہ رہی تو دین کا وجود اور اس کی ضرورت کہاں باقی رہے گی؟ دراصل مذہب، اخلاق اور نیکیوں کی ساری آزمائش اسی عارضی زندگی کے دم سے ہے، اور دنیا کے مٹتے ہی یہ سارا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
