“From beginning to end, I could reveal my state to her; yet I dread the deep regret that might follow once it is spoken.”
میں شروع سے لے کر آخر تک اپنا سارا حال ان سے کہہ تو دوں، مگر فکر اس بات کی ہے کہ کہیں کہہ کر مجھے پچھتاوا نہ ہو۔
یہ شعر دل کی اس نازک کشمکش کی عکاسی کرتا ہے جہاں انسان چاہتا ہے کہ اپنی محبت اور درد کی پوری داستان محبوب کے سامنے کھول کر رکھ دے۔ مگر اظہار کی دہلیز پر پہنچتے ہی پچھتاوے کا ایک انوکھا خوف قدم روک لیتا ہے کہ کہیں یہ راز کھل جانے پر رسوائی یا دوری مقدر نہ بن جائے۔ خاموشی کے محفوظ حصار اور اعتراف کے خطرے کے درمیان یہ وہ کشمکش ہے جس سے محبت کرنے والا ہر دل کبھی نہ کبھی گزرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
