“That you will not come tonight is a certainty firmly known; that you will not heed my word is a truth already accepted.”
مجھے پکا یقین ہے کہ تم رات کو نہیں آؤ گے، اور یہ پہلے سے مانی ہوئی بات ہے کہ تم میری بات نہیں مانو گے۔
اس شعر میں ایک دلکش اور مایوسانہ طنز ہے، جہاں عاشق نے اب جھوٹی امیدوں کے سہارے جینا چھوڑ دیا ہے۔ محبوب کی بے رخی اور وعدہ خلافی اتنی پرانی ہو چکی ہے کہ اب اس کے نہ آنے پر کوئی حیرت نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک طے شدہ سچائی بن چکی ہے۔ یہ محبت کے اُس موڑ کی تصویر ہے جہاں بار بار دل ٹوٹنے کے بعد عاشق نے انکار اور مایوسی کو ہی اپنا مقدر مان لیا ہو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
