“Behold the yearning of your own blade at my utter helplessness: even the grain upon its steel has turned into an eye of sheer astonishment.”
میری بے بسی پر اپنی تلوار کی حسرت تو دیکھو کہ اس کے فولاد پر بنے جوہر بھی حیرت زدہ آنکھ کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔
شاعر نے اس شعر میں تلوار کی آب و تاب اور اس پر موجود قدرتی لہروں یعنی ’جوہر‘ کو آنکھوں سے تشبیہ دے کر کمال کا منظر باندھا ہے۔ عاشق محبوب کے سامنے اس قدر بے بس اور سر تسلیم خم کیے کھڑا ہے کہ خود اس کے قتل پر تلی ہوئی تلوار بھی ششدر رہ گئی ہے۔ مارنے والے ہتھیار کے یہ نقوش اب حیرت اور حسرت کی کھلی آنکھیں بن چکے ہیں، جو اس مظلومانہ خود سپردگی پر دنگ رہ کر وار کرنے سے عاجز آگئی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
