کھا کے دھوکا اس بت کمسن نے دامن میں لیے اشک افشانی بھی میری گوہر افشانی ہوئی

“Deceived by their gleam, that youthful idol gathered them in her hem; even the weeping of my tears became a scattering of pearls.”

— داغ دہلوی
معنی

اس کم عمر محبوب نے دھوکا کھا کر میرے آنسوؤں کو موتی سمجھ کر اپنے دامن میں سمیٹ لیا، اس طرح میرا رونا بھی موتی برسانا بن گیا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے محبوب کے بھولے پن اور اپنے دردِ دل کا حسین نقشہ کھینچا ہے۔ عاشق کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اتنے سچے اور چمکدار تھے کہ اس کم عمر محبوب نے دھوکا کھا کر انہیں سچے موتی سمجھا اور اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ یہ شعر محبت کی اس نازک کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں سچی تڑپ سے نکلے ہوئے آنسو بھی بیکار نہیں جاتے بلکہ نایاب موتیوں کی طرح قیمتی ہو جاتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.