بیکسی پر داغؔ کی افسوس آتا ہے ہمیں کس جگہ کس وقت اس کی خانہ ویرانی ہوئی

“We are moved to sorrow by the utter helplessness of 'Dagh'—in what place, and at what ill-fated hour, was his home brought to ruin?”

— داغ دہلوی
معنی

ہمیں داغ کی بے بسی اور لاچاری پر بڑا افسوس ہوتا ہے؛ نہ جانے کس جگہ اور کس گھڑی اس کا گھر بار لٹ کر برباد ہو گیا۔

تشریح

اس شعر میں داغؔ خود کو ایک تیسرے شخص کے روپ میں دیکھ کر اپنی ہی حالتِ زار پر ایک ہمدرد کی طرح افسوس کر رہے ہیں۔ 'خانہ ویرانی' محض اینٹ پتھر کے گھر کا اجڑنا نہیں ہے، بلکہ محبت کی نظر ہو کر دل کے سکون اور جینے کے سارے سہاروں کا لٹ جانا ہے۔ وہ بڑی حسرت سے سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی بدقسمت گھڑی اور مقام تھا جہاں داغؔ کا ہنستا بستا جہاں یوں بے بسی کی دھول بن گیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev21 / 21