“Even seeing the slayer's empty hand, my heart was seized with dread; the mere fold upon his sleeve became a grim furrow on his brow.”
قاتل کا خالی ہاتھ دیکھ کر بھی میرا دل خوفزدہ ہو گیا، اور اس کی آستین کی سلوٹ بھی مجھے اس کے ماتھے کی شکن جیسی لگی۔
اس شعر میں محبوب یا قاتل کی دہشت اور رعب کا ایک گہرا منظر ملتا ہے۔ قاتل کے ہاتھ میں بظاہر کوئی ہتھیار نہیں ہے، لیکن عاشق کا دل پھر بھی کانپ اٹھتا ہے کیونکہ اس کے تیور ہی جان لیوا ہیں۔ شاعر نے لفظ 'چین' (شکن یا سلوٹ) کے خوبصورت تلازمے سے یہ دکھایا ہے کہ آستین کی معمولی سی سلوٹ بھی پیشانی پر پڑے غضب کے بل جیسی خوفناک معلوم ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
