“Let me but seek and find you on the Plain of Reckoning; can a face so intimately known ever stay hidden?”
قیامت کے میدان میں بس ایک بار میں تمہیں ڈھونڈ تو لوں، بھلا وہ چہرہ بھی کبھی چھپ سکتا ہے جو اتنی اچھی طرح پہچانا ہوا ہو؟
شاعر یہاں روزِ محشر کی بے پناہ افراتفری اور اربوں کے ہجوم کا نقشہ کھینچ رہے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ پُرعزم دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ وہ اپنے محبوب کو ڈھونڈ ہی نکالیں گے۔ جب کوئی چہرہ دل میں اتنی گہرائی سے بسا ہو اور روح کی پہچان بن چکا ہو، تو وہ حشر کی بھیڑ میں بھی بھلا کیسے چھپ سکتا ہے؟ یہ شعر محبت کے اس لافانی یقین اور اٹوٹ اعتماد کا خوبصورت اظہار ہے جو موت اور قیامت کی ہولناکی پر بھی غالب آ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
