دل کی قلب ماہیت کا ہو اسے کیونکر یقیں کب ہوا مٹی ہوئی ہے آگ کب پانی ہوئی

“How could one ever believe the heart's essence has changed? When has wind ever turned to dust, or fire become water?”

— داغ دہلوی
معنی

کسی کو دل کی اصل حقیقت اور فطرت بدل جانے کا یقین کیسے ہو سکتا ہے؟ بھلا ہوا کب مٹی بنی ہے اور آگ کب پانی ہوئی ہے؟

تشریح

اس شعر میں شاعر دل کی بنیادی فطرت اور سچے جذبے کے اٹل ہونے کا خوبصورت بیان کر رہے ہیں۔ 'قلبِ ماہیت' سے مراد کسی شے کی اصل کیفیت کا بدل جانا ہے، جو کہ قدرت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ جیسے ہوا کبھی مٹی نہیں بن سکتی اور آگ کبھی پانی میں تبدیل نہیں ہو سکتی، بالکل ویسے ہی عشق کی آگ میں تپتے دل کی اصلیت کبھی نہیں بدل سکتی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.