“Gladly would I bow at her threshold in eager devotion; why did my frame, from head to toe, not turn to a forehead alone?”
میں شوق سے اس کے دروازے پر مکمل سجدہ کرتا؛ کاش کہ میرا سارا وجود سر سے لے کر پاؤں تک صرف پیشانی ہی پیشانی بن جاتا۔
یہ شعر عشق اور سپردگی کی انتہا کو بے حد خوبصورت مبالغے کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ شاعر کی آرزو ہے کہ کاش اس کا پورا وجود سر سے پاؤں تک صرف پیشانی بن جاتا، تاکہ وہ اپنے محبوب کے در پر بیک وقت مکمل سجدہ ریز ہو سکتا۔ اس دلکش خیال میں محبوب کی چوکھٹ پر خود کو فنا کر دینے کی ایک معصومانہ اور بے پناہ تڑپ جھلکتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
