“The tresses of that playful beauty, drunk on coquetry, must have come undone; for the morning breeze now wanders swaying about, utterly intoxicated.”
شاید اس شوخ اور ناز و انداز والی محبوبہ کی زلفیں کھل گئی ہیں، کیونکہ صبح کی ہوا مست ہو کر جھومتی پھر رہی ہے۔
شاعر نے یہاں حسنِ تعلیل کا بڑا دلکش استعمال کیا ہے، جہاں صبح کی مست ہوا کی مدہوشی کا سبب محبوب کی کھلی ہوئی زلفوں کو ٹھہرایا گیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بادِ صبا یونہی نہیں جھوم رہی، بلکہ شوخ محبوب کے گیسوؤں کو چھو کر ان کی خوشبو سے مخمور ہو گئی ہے۔ یہ شعر محبوب کے جادوئی حسن کو فطرت کے حسن میں گھول کر ایک سحر انگیز سماں باندھ دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
