“Leaving the assembly wounds my pride, yet staying stirs bitter envy; seeing that crowd of rivals around you, what deep torment overtook me!”
محفل سے اٹھ جانے میں غیرت آڑے آتی ہے اور بیٹھے رہنے سے دل میں حسد ہوتا ہے؛ غیروں کا ہجوم دیکھ کر مجھے کس قدر شدید پریشانی اور کشمکش ہوئی۔
شاعر نے اس شعر میں عاشق کی انا اور حسد کے درمیان چلنے والی شدید کشمکش کو دلکش انداز میں سمیٹا ہے۔ محفل سے اٹھ جانا اس کی غیرت کو گوارا نہیں کہ اسے اپنی شکست لگے، اور وہیں بیٹھے رہنا محبوب کے گرد رقیبوں کو دیکھ کر دل میں رشک کی آگ بھڑکاتا ہے۔ یہ ایک عاشق کی اس دلگداز بے بسی کی تصویر ہے جہاں محفل چھوڑنا بھی عذاب ہے اور وہاں ٹھہرنا بھی اذیت۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
