“What do you call this irony? My longing for union grew all the more, / The more renowned became the unblemished chastity she bore.”
اسے کیا کہتے ہیں کہ ملنے کی خواہش اتنی ہی بڑھتی گئی، جس قدر ان کی پاک بازی اور پاک دامنی مشہور ہوئی۔
یہ شعر انسانی فطرت کے ایک خوبصورت تضاد کو سامنے لاتا ہے کہ جو چیز جتنی پہنچ سے دور ہو، اس کی آرزو اتنی ہی شدید ہو جاتی ہے۔ محبوب کی پاک دامانی اور بے داغ کردار کی شہرت جتنی پھیلی، عاشق کے دل میں وصل کی تڑپ ماند پڑنے کے بجائے اور بڑھ گئی۔ محبوب کی یہی پاکیزہ دوری اس کے حسن کو اور زیادہ پُرکشش اور نایاب بنا دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
