“You lost all your wits, O ascetic, at the sight of those intoxicating eyes; would they not have overthrown me too, had I not been a drinker of wine?”
اے زاہد، اس کی نشیلی آنکھیں دیکھ کر تیرے ہوش اڑ گئے؛ اگر میں پہلے سے شراب پینے کا عادی نہ ہوتا تو کیا وہ مجھے بھی مدہوش نہ کر دیتیں؟
اس شعر میں شاعر زاہد پر بڑی خوبصورت اور شوخ چوٹ کرتا ہے، جو اپنی پارسائی کے غرور میں رہتا تھا مگر محبوب کی نشیلی آنکھوں کی ایک ہی جھلک دیکھ کر ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ عاشق مسکرا کر کہتا ہے کہ اگر مجھے بادہ خواری کی پرانی عادت نہ ہوتی—یعنی اگر میں عشق کی سرمستی اور اس کے درد سے پہلے ہی آشنا نہ ہوتا—تو وہ خمار آلود نظریں مجھے بھی الٹ کر رکھ دیتیں۔ یہ دراصل اس حقیقت کا دلکش بیان ہے کہ خشک زہد کا دعویٰ حسن کی پہلی ہی تاب پر ڈھیر ہو جاتا ہے، جبکہ سچا عاشق اس خمار کو سنبھالنے کا ہنر جانتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
