“Such reverence would I command that even foes would bow in prayer, / The beloved's threshold would become the Kaaba, were my tomb laid there.”
اگر محبوب کی چوکھٹ پر میرا مزار ہوتا تو سب مجھے اس طرح مانتے کہ دشمن بھی سجدہ کرتے اور وہ در کعبہ بن جاتا۔
اس شعر میں شاعر اپنی محبت کی انتہا کو ایک دلکش اور شوخ تمنا کے روپ میں پیش کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کاش میری قبر محبوب کی دہلیز پر بنتی، تو وہ آستانہ کعبے کی مانند مقدس بن جاتا۔ اس تقدس کا عالم یہ ہوتا کہ میرے دشمن بھی وہاں سر جھکانے اور سجدہ کرنے پر مجبور ہو جاتے۔ یہاں عشق کو عبادت بنا کر محبوب کے در پر مٹ جانے کے اعزاز کو کمال خوبصورتی سے باندھا گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
