“Upon your promise, cruel one, I would have waited more, / If only of this fleeting life I could have been so sure.”
اے ستم گر! تیرے وعدے پر ہم کچھ دیر اور بھی انتظار کر لیتے، اگر ہمیں اپنی زندگی کے باقی رہنے پر ذرا بھی بھروسا ہوتا۔
اس شعر میں عاشق اپنے سنگ دل محبوب سے شکوہ بھی کر رہا ہے اور ایک گہرا طنز بھی۔ وہ کہتا ہے کہ تیرے جھوٹے وعدے پر ہم عمر بھر انتظار کرنے کو تیار تھے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ زندگی اتنی بے وفا اور ناپائیدار ہے کہ اس کے باقی رہنے کا کوئی بھروسا ہی نہیں۔ یہاں محبوب کی ستم ظریفی اور انسانی زندگی کی بے ثباتی کا درد ایک ساتھ دل پر دستک دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
