“There is no thrill in enmity, nor any joy in friendship's bond; if only a stranger were truly a stranger, and a friend truly a friend.”
نہ دشمنی میں کوئی مزا ہے اور نہ دوستی میں کوئی لطف؛ کاش کوئی غیر سچ مچ بیگانہ ہوتا اور کوئی دوست واقعی سچا دوست ہوتا۔
یہ شعر تعلقات میں خلوص کی کمی اور منافقت کا گلہ کرتا ہے، جہاں نہ تو دشمنی میں سچی بیباکی بچی ہے اور نہ دوستی میں خالص مٹھاس۔ شاعر کو افسوس ہے کہ اب دوستوں میں غیروں جیسی بے رخی آ گئی ہے اور دشمن بظاہر ہمدرد بنے پھرتے ہیں، جس سے رشتوں کا سارا حسن ماند پڑ گیا ہے۔ حسرت بس اتنی ہے کہ ہر تعلق اپنے اصل روپ میں سامنے آئے تاکہ دل کو اس فریب سے نجات مل سکے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
