نہ مزا ہے دشمنی میں نہ ہے لطف دوستی میں کوئی غیر غیر ہوتا کوئی یار یار ہوتا

“There is no thrill in enmity, nor any joy in friendship's bond; if only a stranger were truly a stranger, and a friend truly a friend.”

— داغ دہلوی
معنی

نہ دشمنی میں کوئی مزا ہے اور نہ دوستی میں کوئی لطف؛ کاش کوئی غیر سچ مچ بیگانہ ہوتا اور کوئی دوست واقعی سچا دوست ہوتا۔

تشریح

یہ شعر تعلقات میں خلوص کی کمی اور منافقت کا گلہ کرتا ہے، جہاں نہ تو دشمنی میں سچی بیباکی بچی ہے اور نہ دوستی میں خالص مٹھاس۔ شاعر کو افسوس ہے کہ اب دوستوں میں غیروں جیسی بے رخی آ گئی ہے اور دشمن بظاہر ہمدرد بنے پھرتے ہیں، جس سے رشتوں کا سارا حسن ماند پڑ گیا ہے۔ حسرت بس اتنی ہے کہ ہر تعلق اپنے اصل روپ میں سامنے آئے تاکہ دل کو اس فریب سے نجات مل سکے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.