“Such would be the delight of love's game had the flame burned equally in both hearts: neither would you find any peace, nor would I know any rest.”
اس دل لگی کا اصل مزہ تب ہوتا جب دونوں طرف برابر آگ لگتی، جس سے نہ تمہیں چین نصیب ہوتا اور نہ مجھے قرار ملتا۔
محبت کی تپش کا اصل دکھ یہ ہے کہ جب یہ یکطرفہ ہو تو سارا درد اکیلے ہی سہنا پڑتا ہے۔ شاعر بڑی دلنشیں حسرت سے کہتا ہے کہ اس عشق کا حقیقی مزہ تو تب آتا جب چاہت کی یہ آگ دونوں طرف برابر جلتی اور بے قراری دونوں کا مقدر بنتی۔ یہ شعر دراصل اس مشترکہ تڑپ کی آرزو ہے جس میں عاشق اور محبوب دونوں کا چین چھن جائے اور یہی بے چینی ان کے تعلق کا سچا لطف بن جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
