“There was delight in the grief of love, had it been savored with understanding keen; this is that poison which in the end, a sweet and pleasant wine would have been.”
عشق کے غم کو اگر سمجھ بوجھ کر سہا جاتا تو اس میں بھی مزا تھا، کیونکہ یہ وہ زہر ہے جو آخرکار خوشگوار شراب بن جاتا۔
شاعر یہاں غمِ عشق کی انوکھی لذت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر دل کی اس تکلیف کو سلیقے اور صبر سے برتا جاتا تو اس کا اپنا ہی ایک لطف تھا۔ عشق کا درد شروع میں بظاہر زہرِ قاتل کی طرح کڑوا لگتا ہے، لیکن اگر انسان اسے ضبط کے ساتھ برداشت کر لے تو رفتہ رفتہ یہی کڑواہٹ روح کو سرشار کرنے والی خوشگوار شراب بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
