“Had someone made false promises to you, just as you do to me, / Tell me in all fairness—would you have believed them true?”
اگر کوئی تمہاری طرح تم سے جھوٹے وعدے کرتا، تو تم خود انصاف سے بتاؤ کہ کیا تمہیں اس پر اعتبار ہوتا؟
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب سے لڑنے جھگڑنے کے بجائے نہایت نرمی اور معصومیت سے انصاف کا تقاضا کر رہا ہے۔ وہ محبوب کو آئینے کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے کہ ذرا اپنی جگہ مجھے رکھ کر سوچو، اگر کوئی تمہارے ساتھ یہی کھیل کھیلتا تو کیا تم واقعی اس پر بھروسا کر پاتے؟ یہ دل کا ایسا خاموش شکوہ ہے جس میں طعنہ کم اور محبوب کے بے حس رویے سے پہنچنے والی گہری چوٹ کا درد زیادہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
