“Why shouldn't you take pride, having won the heart of Dagh? Had this treasure not come into your hands, you would have known no such honor.”
آپ کو ناز کیوں نہ ہو کہ آپ نے داغ کا دل جیت لیا ہے۔ اگر یہ دولت آپ کے ہاتھ نہ لگتی، تو آپ کو یہ فخر اور عزت بھی حاصل نہ ہوتی۔
داغؔ دہلوی کا یہ شعر ان کی خاص شوخی، بانکپن اور فخریہ انداز کی بہترین مثال ہے۔ وہ معشوق سے کہتے ہیں کہ تمہارا خود پر ناز کرنا بالکل بجا ہے، کیونکہ تم نے داغؔ جیسے شخص کا دل جیتا ہے۔ شاعر نے اپنے دل کو ایک بیش قیمت خزانہ قرار دیا ہے اور بڑے دلکش انداز میں یہ جتا دیا ہے کہ محبوب کو جو یہ فخر اور بلند رتبہ ملا ہے، وہ دراصل داغؔ کی محبت پانے کی بدولت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
