“It stirred that modest glance to restless longing—what a feat it achieved; my heart's surrender to your eyes has finally borne its true colors.”
میرے دل کا تمہاری آنکھوں میں بس جانا آخرکار رنگ لے آیا، اس نے تمہاری شرمیلی نگاہ کو بے چین کر کے کمال کر دکھایا۔
اس شعر میں شاعر محبوب کی باحیا اور شرمیلی نگاہوں پر اپنے عشق کے اثر کو خوبصورتی سے بیان کر رہا ہے۔ وہ مسرت سے کہتا ہے کہ دل کا محبوب کی آنکھوں میں بس جانا بالآخر رنگ لایا، کیونکہ اس نے اس پرحیا نظر کو بھی بے تاب اور بے چین کر دیا۔ یعنی دل کی سچی چاہت ضائع نہیں گئی بلکہ اس نے محبوب کی حیا کے پردے کو چاک کر کے اس کی آنکھوں میں محبت کا جلوہ بکھیر دیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
