“My fingers get entangled in the threads of my torn collar; how arduous it is to quiet the aching heart with mere hands.”
انگلیاں چاک گریبان کے دھاگوں میں الجھ جاتی ہیں، اپنے ہاتھوں سے تڑپتے دل کو دبانا اور قابو کرنا انتہائی مشکل ہے۔
جب دل کی بے چینی اور درد حد سے گزر جاتا ہے، تو انسان بے ساختہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر جنونِ عشق میں گریبان تو پہلے ہی چاک ہو چکا ہے، اور کانپتی ہوئی انگلیاں انہی بکھرے ہوئے دھاگوں میں الجھ جاتی ہیں۔ یہ شعر اس لاچاری کی دلگداز تصویر ہے کہ اندر کے بے قابو طوفان کو محض کمزور ہاتھوں سے دبا کر روکنا کس قدر دشوار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
