ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہ ہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا

“O God, may these beauties remain forever in their innocent youth, for once maturity arrives, they only learn to torment the heart.”

— داغ دہلوی
معنی

اے اللہ! ان حسینوں کا بچپن ہی قائم رہے، کیونکہ جیسے ہی انہیں ہوش اور سمجھ آتی ہے تو انہیں دل کو ستانا بھی آ جاتا ہے۔

تشریح

شاعر یہاں بڑے شوخ اور دلکش انداز میں دعا کر رہا ہے کہ اے خدا! ان حسینوں کا یہ بھولا بھالا لڑکپن ہمیشہ سلامت رہے۔ بچپن میں یہ پرفریب انداز اور ستم گری سے بے خبر ہوتے ہیں اور ان کی معصومیت میں ایک خاص مٹھاس ہوتی ہے۔ مگر جیسے ہی وہ ہوش سنبھالتے ہیں اور شباب کے ساتھ دنیا داری آتی ہے، تو سب سے پہلا ہنر وہ عاشقوں کا دل جلانے اور انہیں تڑپانے کا ہی سیکھتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.