“Holding a rosebud clenched within their fist, they came; when I asked what it was, they feigned it was a heart.”
وہ گلاب کی کلی کو مٹھی میں لیے آ رہے تھے، جب میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو مجھ سے بہانہ بنا کر کہہ دیا کہ یہ دل ہے۔
اس شعر میں محبوب کی دلکش شوخی اور ادا کا کمال دیکھیے کہ وہ مٹھی میں ایک بند کلی چھپائے چلے آ رہے ہیں اور استفسار پر کہتے ہیں کہ یہ تو 'دل' ہے۔ اردو شاعری میں غنچے اور دل کا رشتہ بہت گہرا ہے، کیونکہ بند کلی اپنی بناوٹ، نزاکت اور سرخی میں ہو بہو دل جیسی نظر آتی ہے۔ محبوب کا یہ معصوم بہانہ دراصل ایک میٹھا اشارہ ہے کہ عاشق کا دل اب ان کے قبضہ و اختیار میں قید ہو چکا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
