“You do not even know as yet to paint your hands with henna; how did you learn so soon, my love, to give your heart to strangers?”
تمہیں ابھی تک ہاتھوں پر پوری طرح مہندی لگانا بھی نہیں آتا، پھر تم نے غیروں سے دل لگانا کیسے سیکھ لیا؟
اس شعر میں شاعر محبوب کے کچے پن اور معصومیت کے ساتھ ساتھ اپنے ہلکے پھلکے شکوے کو بڑی شوخی سے پیش کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ابھی تو تمہیں ہاتھوں پر سلیقے سے مہندی رچانا بھی نہیں آیا، جو کہ نوعمری اور نادانی کا پتا دیتی ہے۔ پھر اتنی سی عمر میں تم نے غیروں سے دل لگانے جیسا پُرپیچ اور گہرا فن آخر کہاں سے اتنی جلدی سیکھ لیا؟ یہاں 'مہندی لگانے' اور 'دل لگانے' کی مناسبت اس نازک گِلے کو بے حد دلنشین بنا دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
