“Such utter ruin did the beloved's glance impart, that no shelter remains for the liver, no home for the heart.”
محبوب کی نگاہ نے ایسی بربادی اور تباہی مچائی ہے کہ اب نہ جگر کا کوئی ٹھکانہ رہا ہے اور نہ دل کا۔
اس شعر میں محبوب کی ایک نظر کی قیامت خیزی کا بڑا دلکش بیان ہے۔ کلاسیکی شاعری میں دل کو محبت اور جگر کو صبر و برداشت کا مسکن مانا گیا ہے، لیکن نگاہِ یار نے وہ سحر انگیز تباہی مچائی کہ جذبات اور ضبط دونوں ہی بے گھر ہو گئے۔ یہ بربادی دراصل عشق کی وہ کیفیت ہے جہاں عاشق اپنے ہوش و حواس کھو کر بھی اس لٹ جانے میں ایک عجیب لطف محسوس کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
